نقش وتعویذات کے مقابلے میں آیاتِ قرآنیہ اور وہ دعائیں جو حدیثِ پاک میں وارد ہوئی ہیں یقیناً بہت زیادہ مفید اور مؤثر ہیں۔ عملیات میں انہی چیزوں کا اعتبار کرنا چاہیے۔

فخر الرسل صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم  نے دینی یا دنیاوی کوئی حاجت اور غرض ایسی نہیں چھوڑی جس کے لیے دعا کا طریقہ نہ تعلیم فرمایا ہو، اسی طرح بعض مخصوص آیات کا مخصوص مقاصد کے لیے پڑھنا مشائخ کے تجربات سے ثابت ہے۔

یہ ”منزل“ آسیب، سِحر اور بعض دوسرے خطرات سے حفاظت کےلیےایک مجرّب عمل ہے۔ یہ آیات کسی قدر کمی بیشی کے ساتھ ”القول الجمیل“اور ” بہشتی زیور“ میں لکھی ہوئی ہیں۔

”القول الجمیل“میں حضرت شاہ ولی اللہ محدّث دہلوی قدّس سرّہ تحریر فرماتے ہیں :

”یہ 33 آیات ہیں جو جادو کے اثر کو دفع کرتی ہیں اور شیاطین ، چوروں اور درندے جانوروں سے پناہ ہوجاتی ہے۔“

اور بہشتی زیور میں حضرت تھانوی رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں کہ:

”اگر کسی پر آسیب کا شبہ ہو تو آیاتِ ذیل لکھ کر مریض کے گلے میں ڈال دیں اور پانی پر دم کرکے مریض پر چھِڑک دیں اور اگر گھر میں اثر ہو تو اِن آیات کو پانی پر پڑھ کر گھر کے چاروں گوشوں میں چھِڑک دیں۔“

ہمارے گھر کی مستُورات کو یہ مشکل پیش آتی کہ جب وہ کسی مریضہ کے لیے اس منزل کو تجویز کرتیں تو اصل کتاب میں نشان لگاکر یا نقل کراکر دینی پڑتی تھی، اس لیے خیال ہوا کہ اگر اس کو علیحدہ مستقل طبع کرادیا جائے تو سہولت ہوجائے گی۔ یہ بات بھی قابلِ لحاظ ہے کہ عملیات اور دعاؤں میں زیادہ دخل پڑھنے والے کی توجہ اور یکسوئی کو ہوتا ہے۔ جتنی توجہ اور عقیدہ سے دعا پڑھی جائے اتنی ہی مؤثر ہوتی ہے۔ اللہ کے نام اور اُس کے پاک کلام میں بڑی برکت ہے۔

نقش وتعویذات کے مقابلے میں آیاتِ قرآنیہ اور وہ دعائیں جو حدیثِ پاک میں وارد ہوئی ہیں یقیناً بہت زیادہ مفید اور مؤثر ہیں۔ عملیات میں انہی چیزوں کا اعتبار کرنا چاہیے۔

فخر الرسل صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم  نے دینی یا دنیاوی کوئی حاجت اور غرض ایسی نہیں چھوڑی جس کے لیے دعا کا طریقہ نہ تعلیم فرمایا ہو، اسی طرح بعض مخصوص آیات کا مخصوص مقاصد کے لیے پڑھنا مشائخ کے تجربات سے ثابت ہے۔

یہ ”منزل“ آسیب، سِحر اور بعض دوسرے خطرات سے حفاظت کےلیےایک مجرّب عمل ہے۔ یہ آیات کسی قدر کمی بیشی کے ساتھ ”القول الجمیل“اور ” بہشتی زیور“ میں لکھی ہوئی ہیں۔

”القول الجمیل“میں حضرت شاہ ولی اللہ محدّث دہلوی قدّس سرّہ تحریر فرماتے ہیں :

”یہ 33 آیات ہیں جو جادو کے اثر کو دفع کرتی ہیں اور شیاطین ، چوروں اور درندے جانوروں سے پناہ ہوجاتی ہے۔“

اور بہشتی زیور میں حضرت تھانوی رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں کہ:

”اگر کسی پر آسیب کا شبہ ہو تو آیاتِ ذیل لکھ کر مریض کے گلے میں ڈال دیں اور پانی پر دم کرکے مریض پر چھِڑک دیں اور اگر گھر میں اثر ہو تو اِن آیات کو پانی پر پڑھ کر گھر کے چاروں گوشوں میں چھِڑک دیں۔“

ہمارے گھر کی مستُورات کو یہ مشکل پیش آتی کہ جب وہ کسی مریضہ کے لیے اس منزل کو تجویز کرتیں تو اصل کتاب میں نشان لگاکر یا نقل کراکر دینی پڑتی تھی، اس لیے خیال ہوا کہ اگر اس کو علیحدہ مستقل طبع کرادیا جائے تو سہولت ہوجائے گی۔ یہ بات بھی قابلِ لحاظ ہے کہ عملیات اور دعاؤں میں زیادہ دخل پڑھنے والے کی توجہ اور یکسوئی کو ہوتا ہے۔ جتنی توجہ اور عقیدہ سے دعا پڑھی جائے اتنی ہی مؤثر ہوتی ہے۔ اللہ کے نام اور اُس کے پاک کلام میں بڑی برکت ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے